یہ ڈبے نہیں بلکہ گھاس ہے جسے کاٹ کر بنڈل بنا کر پلاسٹک میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ اسے ہے بال بھی کہتے ہیں۔ کافی بڑی ہوتی ہے۔ فننش سائنسدان کو اسی گھاس کی تازگی کو محفوظ کرنے کے طریقے کی دریافت پر نوبل انعام ملا تھا :)
زید حامد نے ایک بار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے سلسلے میں تقریر کی تھی کہ ہماری ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کیا جائے۔ جواب میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے بتایا کہ زید حامد صاحب کو خود بھی پتہ نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں :)
خراب کیمرے سے تصویر قریب سے لی گئی تھیں اور لائٹ بہتر تھی۔ اچھے کیمرے سے دور کی تصویر لی گئی ہے لیکن اس میں میرے لینز میں امیج سٹیبلائزر نہیں اور گاڑی روک کر راستے سے ہی تصویر کھینچی ہے :)
خراب کیمرے والی اوپر موجود ہیں، یعنی دھاگے کے شروع میں۔ تصاویر کو میں نے جان بوجھ کر ری سائز کیا ہوا ہے ورنہ اصل تصاویر آٹھ سے اٹھارہ ایم بی تک کی تھیں