نامعلوم کو جاننے کی خواہش ہمارے اندر کم یا بالکل ہی ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے ہر نامعلوم یا ہر نادیدہ چیز کو ہم ایک چھلاوہ سمجھ کر اس سے خوف کھاتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں۔ میرا ذاتی کلیہ یہ ہے کہ جیسے ابن صفی نے اپنے ایک ناول "گیت اور خون" (مجموعے کا نام "لاوال" تھا) میں عمران کی زبانی کہلوایا تھا کہ...