(٩)
کوئی آسماں کیا سوا ہو گیا
کہ افزوں نزول بلا ہو گیا
وہ جاتے ہیں دامن بچائے ہوئے
تجھے جرات شوق کیا ہو گیا
ڈرو نالہ حسرت آلود سے
غضب ہو گیا گر رسا ہو گیا
نہ ہلنے دیا مہر صیاد نے
رہا قید میں گو رہا ہو گیا
کبھی میرے دل سے نکلتا نہیں
یہ غم تو مزا وصل کا ہو گیا
ہوئے بال و پر...