اپنا یہ عالم ہے خود سے بھی اپنے زخم چھپاتے ہیں
لوگوں کو یہ فکر کہ کوئی موضوع تشہیر بنے
تم نے فراز اس عشق میں سب کچھ کھو کر بھی کیا پایا ہے
وہ بھی تو ناکام ِ وفا تھے جو غالب اور میر بنے
اے چشم فلک اے چشم زمیں ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم
کیا اپنی حقیقت کیا ہستی’ مٹی کا ایک حباب ہیں ہم
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم۔۔
:) ۔۔۔ھمم سے جلدی سے واپس آنا ۔۔ہم سب تمہیں بہت مس کریں گے ۔۔۔۔۔انشاءاللہ خیریت سے جاؤ اور خیریت سے آؤ۔۔۔۔۔اپنا بہت بہت خیال رکھنا اور خوب انجوائے کرنا۔۔۔۔ :)
۔:)۔۔ شکریہ شمشاد بھائی ۔۔آپ نے تصحیح کر دی ۔۔۔ :) ۔۔۔۔ میں کب سے سوچ رہی تھی کہ انک کو اردو میں کیا کہتے ہیں ۔۔۔پھر جو سمجھ آیا وہ ہی لکھ دیا۔۔۔ :? ۔۔۔
اور آپ کا جواب درست ہے ۔۔۔ :)۔