زندگی
ہر دکھ ہر عذاب کے بعد زندگی آدمی پر اپنا راز کھول دیتی ہے بودھ گیا کی چھاؤں تلے بدھ بھی ایک دکھ بھری تپسیا سے گزرے تھے- جب پیٹ پیٹھ سے لگ گیا، آنکھیں اندھے کنویں کی تہ میں بے نور ہوئیں اور ہڈیوں کی مالا میں بس سانس کی ڈوری اٹکی رہ گئی تو گوتم پر بھی ایک بھید کھلاتھا- جیسا اور جتنا اور جس...