بچپن کے دُکھ بھی کتنے اچھے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹُوٹا کرتے تھے
وہ خوشیاں بھی نہ جانے کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر نوچ کے اُچھلا کرتے تھے
پاوٰں مار کے خود بارش کے پانی میں
اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے
آب تو اِک آنسُو بھی رُسوا کر جاتا ہے
بچپن میں دِل کھول کے رویا کرتے تھے