سکوں محال ہے امجد وفا کے رستے میں
کبھی چراح جلے ہیں ہَوا کے رستے میں ؟
نجانے اَب کے برس کھیتیوں پہ کیا گُزرے!
کئی پہاڑ کھڑے ہیں گھتا کے رستے میں
قدم قدم پہ قدم لڑ کھڑائے جاتے ہیں
بُتوں کے ڈھیر لگے ہیں خُدا کے رستے میں
جہانِ نو کو شعُورِ مُسافرت دیں گے
ہم اپنے خُون سے شمیں جلا کے...