کوشش ہے کہ تازہ کلام ہی پیش کروں جو اس سے پہلے پیش نہ کیا ہو۔
ایک نظم کے دو بند :
تم مرا خواب ہو
خواب بھی وہ کہ جو
وجہِ تعبیر ہے
اصلِ تعمیر ہے
وقت کے سحر میں
کھوئی جاتی سبھی
کائناتوں میں جو
ربط زنجیر ہے
تم مرا خواب ہو
خواب بھی وہ کہ جو
دشتِ تاریک میں
اک ردا بن گیا
ذاتِ بے چہرہ میں
آئنہ بن گیا...