ارشاد ہے :
کوئی دیوار سے لگ کے بیٹھا رہا ، اور بھرتا رہا سسکیاں رات بھر
آج کی رات بھی چاند آیا نہیں ، راہ تکتی رہیں کھڑکیاں رات بھر
غم جلاتا کسے کوئی بستی نہ تھی ، مرے چاروں طرف مرے دل کے سوا
میرے ہی دل پہ آ آ گرتیں رہیں ، مرے احساس کی بجلیاں رات بھر
دائرے شوخ رنگوں کے بنتے رہے ، یاد آتی...