طبیعت بالکل نہیں چاہ رہی کہ چائے سے مزید دوری اختیار کیے رکھیں۔ جانا ہی پڑے گا ورنہ دماغ کی پٹاری میں چھپے سوچوں کے ناگ اپنے پھن پھیلائے ڈسنے آ جائیں گے میکوں۔
عادت بنا لی جائے ہر سوچ اور فکر کو چائے کی ایک پیالی میں گھولنے کے ساتھ ساتھ بڑبڑاتے ہوئے خود کلامی کی کہ
زیاں بہت سہی مگر قرض تو چکانا ہے۔ لہو کا قرض۔