نتائج تلاش

  1. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جب فکر نے راہ پر لگایا مجھ کو حکمت نے جب آئینہ دکھایا مجھ کو ذرات سے لے کے تا بہ انجم، واللہ جز اپنے کوئی نظر نہ آیا مجھ کو
  2. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    منہ شرم سے ڈھانپتی ہے عقلِ انساں تھراتی ہے، کانپتی ہے عقلِ انساں تحقیق کی منزلیں، عیاذاً باللہ ہر گام پہ ہانپتی ہے عقلِ انساں
  3. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر نطق پر ایک گفتگو جاری ہے ہر خاک پہ ایک آبجو جاری ہے حیوان و نباتات و جماد و انساں ہر نبض میں ایک ہی لہو جاری ہے
  4. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    انسا‌‌ں پہ ہے کس درجہ خرافات کا بار دن کا ہے کبھی وزن، کبھی رات کا بار پیدا ہو بشر میں کیا حکیمانہ مزاج عقلوں پہ ہے صدیوں کے روایات کا بار
  5. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    انسان کو رفتہ رفتہ حیواں کر دے ہر نور کو صد نار بداماں کر دے دولت کہ فرشتوں سے بڑھا دیتی ہے جم جائے اگر کہیں تو شیطاں کر دے
  6. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    تعریف نہ کر رفیقِ جانی! میری پامال بہت ہے زندگانی میری یہ مجھ میں شرافت جو نظر آتی ہے بنیاد ہے اِس کی ناتوانی میری
  7. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر سانس کو وقفِ صد شرارت کر دیں اخلاق کی کچھ عجیب حالت کر دیں مفلس کہ امیروں کے گناتے ہیں گناہ دولت اِنہیں دے دو تو قیامت کر دیں
  8. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر صاحبِ جوہر کو سبک سر کر دے فطرت کو زبوں کر کے زبوں تر کر دے افلاس کہ کھینچتا ہے ایماں کی طرف کمبخت مسلسل ہو تو کافر کر دے
  9. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    احقر نہیں کوئی ناتواں سے بڑھ کر ابتر نہیں کوئی ناتواں سے بڑھ کر از روئے شریعتِ خدائے کم و بیش کافر نہیں کوئی ناتواں سے بڑھ کر
  10. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اوہام سے دل ڈرے ہوئے ہیں اب تک کس طرح جئیں؟ مرے ہوئے ہیں اب تک افسوس کہ اسلاف کے باسی اقوال کانوں میں یہاں بھرے ہوئے ہیں اب تک
  11. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اس فکر میں اک عمر سے ہوں بے خور و خواب کس طرح معطل ہوں رسوم و آداب اچھی تو ہے وضعِ راست گوئی، لیکن برداشت بھی کر سکیں گے اُس کو احباب؟
  12. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    یا رب! نئی لوح، کہنہ مضمون، یہ کیا؟ صدیوں کے لیے ایک ہی معجون، یہ کیا؟ ہر آن بدلنے والے انساں کے لیے جَو بھر نہ بدلنے والا قانون، یہ کیا؟
  13. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اس دہر میں تا دیر ٹھہرنا بہتر یا تیز روی سے کوچ کرنا بہتر بس زندہ ہوں اب تک اس تذبذب کے طفیل جینے میں ہے فائدہ کہ مرنا بہتر
  14. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جو شمع تھی، پروانہ ہوئی جاتی ہے ہر زلفِ رسا، شانہ ہوئی جاتی ہے تحلیل کی رو میں ہر حقیقت اے جوش فریاد، کہ افسانہ ہوئی جاتی ہے
  15. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جلوے معدوم ہیں، نگاہیں لاکھوں گردن مفقود، اور بانہیں لاکھوں مبہوت ہے کاروانِ فکرِ انساں 'منزل' عنقا ہے، اور 'راہیں' لاکھوں
  16. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر بات پہ منہ ترا اترتا کیوں ہے؟ جینے کے لیے بنا ہے، مرتا کیوں ہے؟ کونین کے ساتھ کھیل اے طفلِ حیات کونین خود اک کھیل ہے، ڈرتا کیوں ہے؟
  17. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہوتا ہے سکون غم بڑھانے کے لیے آتی ہے ہنسی، خون رلانے کے لیے افسوس کہ تقدیر جلاتی ہے چراغ ظلمت کو بہ تفصیل دکھانے کے لیے
  18. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جب حدِّ طلب سے دل نکل جاتا ہے سانچے میں طرب کے، درد ڈھل جاتا ہے کر لیتی ہیں غم کا جب احاطہ نظریں ہر اشک، تبسم میں بدل جاتا ہے
  19. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جب عقل ہی بیکس ہو تو نیت کیسی جب حکمِ مشیت ہو، شرارت کیسی ماحول و وراثت پہ ہے مبنی ہر فعل خاطی پہ ترس کھائیے، نفرت کیسی؟
  20. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    گرداب سے کھیل کر ابھرنے والے! ممنوع شجر سے اے نہ ڈرنے والے اس ارض کا تحفۂ خلافت ہو قبول فردوس میں اے گناہ کرنے والے!
Top