تمہارے نقشِ قدم پر جو کارواں گزرے
بھٹک سکے نہ وہ منزل سے کامراں گزرے
کہیں سے اور بھی اب برقِ آسماں گزرے
ضرور کیا ہے سرِ شاخ آشیاں گزرے
بخیر راہِ محبت سے ہم کہاں گزرے
قدم قدم پہ بڑے سخت امتحاں گزرے
وہ غم نصیب تھا دنیا میں مَیں کے مرنے پر
مری لحد سے جو گزرے وہ نوحہ خواں گزرے
صعوبتوں کی وہ عادت...