رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
(سورة الإسراء)
ترجمہ : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔
بہت خوبصورت
مسلکِ تسلیم اور حق کی رضا پر آپ نے
کر کے کوفے کا سفر راہِ وفا پر آپ نے
رکھ دیا سوکھا گلا تیغِ جفا پر آپ نے
ظلم سے ٹکرا کے ارضِ کربلا پر آپ نے
گو بظاہر مسلکِ اسلام تابندہ کیا
اصل میں انسانیت کا نام تابندہ کیا
آپ کیوں تسلیم کرتے بیعتِ دستِ یزید
آپ کی نظروں میں تھی روزِ سیہ باطل کی عید
گفتگوئے صلح کی پا کر نہ گنجائش مزید
ہو گئے اہلِ ستم کے تیر و خنجر سے شہید
آپ نے اسلام کے پرچم کو اونچا کر دیا
الغرض انسانیت کا بول بالا کر دیا
سبحان اللہ، بہت عمدہ!
کس قدر خوبصورت کلام ، خوش رہیے ۔
کامران بھائی، اگر پسند کریں تو فونٹ سائز بڑھا دیں، علاوہ ازیں املاء میں کچھ الفاظ کلام کی خوبصورتی کو متاثر کر رہے ہیں انہیں بھی ایک نظر دوبارہ دیکھ لیجیے۔