محترم بھائی ۔۔۔ جب دعا نہیں خدا نہیں ۔۔۔ تو بس باقی رہ گیا اک وجود ۔ جس میں موجود سوچ وخیال اس وجود کی حقیقت کا عکاس ہے۔ سو اسی وجود میں رقصاں سوچ و خیال کے سامنے تشکیک کے دائرے بنتے ہیں ۔ آہ و زاری نہیں کہتے ۔" گیت گاتا چل " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرار دے لیتے ہیں ۔اور منزل کی جانب سفر جاری رکھتے ہیں ۔...