زندہ رہنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دل نرم ہو لیکن حوصلے چٹانوں جیسے۔ تب جلدی عادی ہو جاتا ہے انسان بدلتے رویوں کو سہہ کر مزے سے جینا۔ ورنہ لوگ تو اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ انھیں معلوم ہو کہ ہماری وجہ سے کوئی کتنا گھائل ہوا۔ پھر نمک چھڑکنے کو بھی ایسے ہی لوگ تیار ملتے ہیں۔