گِردوں۔۔۔ آسمان
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گِردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
عبث۔۔۔بے کار
عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
زُنّار۔۔۔ وہ دھاگا؍ڈوری جو ہندو پہنتے ہیں، کفر کی علامت
سُبحہ۔۔۔ تسبیح
عاشق جو ہوئے اس پہ ظفر کافر و دین...