تم مجھے یوں بھُلا نہ پاؤ گے
تم مجھے یوں بھُلا نہ پاؤ گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت مِرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے
وہ بہاریں وہ چاندنی راتیں
ہم نے کی تھیں جو پیار کی باتیں
ان نظاروں کی یاد آئے گی
جب خیالوں میں مجھ کو لاؤ گے
میرے ہاتھوں میں تیرا چہرہ تھا
جیسے کوئی گلاب ہوتا ہے
اور سہارا لیا تھا...