ہماری عید گاہ تو جناب وہ دور کھیتوں میں۔۔۔ پہلے پہل تو گاؤں کے لوگوں کے لئے کافی تھی لیکن اب آبادی بڑھ چکی ہے سو اس کی توسیع کے بارے سوچا جا رہا ہے اور کوئی پانچ چھ سال سے سوچا جا رہا ہے۔ گاؤں کی آبادی کا ستر فیصد حصہ اسی میں نماز ادا کرتا ہے، اور چونکہ جگہ کم پڑ جاتی ہے لہذا عید کے دنوں میں...