جیسے احسان دانش مرحوم کی ایک نظم جشنِ بے چارگی ہے جو ایک سچویشن پر لکھی گئی ہے۔ اور کیا کمال لکھی گئی ہے۔ تو ہو سکتا ہے کہ ایسے کسی واقعہ پر بھی کبھی کسی شاعر نے احساسات کو الفاظ کا روپ دیا ہو۔
نظم کوئی بھی شاعر اپنے احساسات کے مطابق لکھتا ہے، نہ کہ کسی اور کی بتائی ہوئی سچویشن پر؟
شاید کسی شاعر نے ایسے کسی واقعہ پر کوئی نظم لکھی بھی ہو۔
اگر کوئی شاعر آن ڈیمانڈ نظم لکھ بھی دے گا تو وہ پر اثر ہونے کے امکانات کم ہی ہوں گے۔
مضمون نگار نے جتنے نکات پر بات کی ہے، یہ اس میں سے ایک نکتہ ہے، اختلاف پورے مضمون سے بھی رکھا جا سکتا ہے، یہ مضمون نگار کا نقطۂ نظر ہے، جس کے بہت سے نکات مجھے معقول لگے ہیں، ہر فرد اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔
مرد اور عورت کی نفسیات کا مطالعہ تو ایک الگ موضوع بن جاتا ہے۔ اور یہ بہرحال اس مضمون...