کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
میرے دل کو داغ لگا گئے، یہ نیا شگوفہ دکھا گئے
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
مرے پاس آتے تھے دم بدم، وہ جدا نہ ہوتے تھے ایک دم
یہ دکھایا چرخ نے کیا ستم کہ مجھی سی آنکھ چرا
جو ملاتے...