بہت مشکل ہے کہ اب کی بار ایمازون کاروبار سمیٹ کر چلا جائے۔اب ہمیں سدھرنا ہو گا کہ زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔ وہ پالیسیاں طے کر دیں گے اور جو ان پالیسیوں پر نہیں چلیں گے، وہ کوئی فوائد سمیٹ نہ پائیں گے اور سسٹم سے آؤٹ ہوتے رہیں گے۔
کپتان منہ نہیں لگاتا ہے مگر پاؤں شجاعت کے بھی چھو لیتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ وہی کرے گا جس کے باعث اقتدار میں رہ سکے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اسے فوجی جرنیلوں کا اعتماد حاصل ہے اور اس لیے وہ کھل کھیل رہا ہے اور کھیلتا رہے گا کہ ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے لگائے گئے وزرائے اعظم اسی اعتماد کے حامل...
اس کی وجہ یہ اعتماد ہے کہ آنجناب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ موجود ہے جو ہر معاملہ سنبھال لے گی۔ کبھی انا پرستی اور کبھی موقع پرستی، یہ سیاست دانوں کے ڈھب ہوتے ہیں بالخصوص جن سے ہمارا واسطہ پڑا ہوا ہے۔ انا کا ایسا خاص مسئلہ نہیں کہ یہی کپتان تھے جو خورشید شاہ کے پیچھے بھی کھڑے ملے، اور کبھی راحیل شریف...
آپ عمدہ قسم کے تین چار گنے لیں اور ان سے گنڈیریاں نکال کر بیچیں اور کھائیں۔ دو سال یہ شغل رکھیں۔ اس کے بعد جو کسر رہ جائے گی، وہ عوام نکل دے گی۔ آپ کے خیال میں یہ کام نہ کرنے کی کوئی لاجک ہے؟ ایسا ہے تو پھر اقتدار کی ہوس کے علاوہ آپ کو اقتدار میں رکھنے کا محرک اور کیا ہے؟