اس وقت اصل مقابلہ عمران خان بمقابلہ عمران خان ہی ہے۔ اگر ڈیلیور نہ کر سکے تو عوام خود ہی ریجیکٹ کر دے گی۔ مقابلے میں فی الحال کوئی اور نہیں، اُن کی اپنی کارکردگی ہے۔ پنجاب کی عوام تو شاید نون لیگ کو فتح یاب دیکھنا چاہتی ہے مگر ابھی اس میں بہت وقت پڑا ہے۔ شہباز شریف بس خبر کی حد تک کہیں موجود ہیں...
ان اداروں کے سربراہ بھی زیادہ تر فوجی رہے ہیں اور ملک پر طویل عرصہ تک فوجی مسلط رہے ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ سویلینز کو ہم باتیں نہ سنائیں مگر باجوہ ڈاکٹرائن اب بھی ہم پر کیوں مسلط ہے جب کہ ہم نے زیادہ مصائب بھی فوج کی وجہ سے برداشت کیے ہیں۔ آج بھی فوج سے بیعت شدہ سیاست دان ہمارے حکمران ہیں۔
یہ سب باتیں باجوہ ڈاکٹرائن کے حق میں ہیں مگر میری نظر ایک اور باجوہ پر ہے۔ اگر فوج اپنے معاملات، بشمول معاشی معاملات، درست نہیں کرتی ہے تو طلعت ہو یا جاوید ہو، کچھ بننے والا نہیں۔ ایک طرف محب وطن ہونے کے دعوے، اور دوسری جانب جزیرے خریدنے کی باتیں ہیں اور پاپا جانز کی چینز ہیں۔ سوچیں۔
میں کارڈز استعمال کر کے بنک کی ایپ میں جا کر اسے عارضی طور پر بلاک کر دیتا ہوں تاکہ نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری۔ جب استعمال کرنا ہوتا ہے تو ان بلاک کر لیتا ہوں۔
کم از کم میں تو آن لائن شاپنگ کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ رجحان بہت زیادہ پھیلتا جا رہا ہے، بالخصوص بڑے شہروں میں لا تعداد ایپس ہیں جو گھر میں کھانا، اشیائے ضروریہ وغیرہ سپلائی کرتی ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں اس حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے۔
میں نے ایک رات کو یہ تصاویر اکیلے میں دیکھیں۔ مجھے تیز بخار ہے اور نیند و بیداری کے عالم میں ایک سبز ہیولہ نگاہوں کے آر پار ہوتا ہے۔ آپ کو تو خیر ڈرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ میں تو اسے فنگس کی کوئی قسم سمجھا تھا، یہ تو کوئی پنگس نکل آیا ہے۔
ایک پہیلی وہ تھی، یعنی کہ
ہری تھی من بھری تھی، نو لاکھ موتی جڑی تھی، راجہ جی کے باغ میں، دوشالہ اوڑھے کھڑی تھی
اور ایک پہیلی یہ ہے، سر ہے نہ پیر۔ بس، اک ہیولہ ہے، موتی ہیں، نہ دو شالہ۔ بندہ کب تک ڈرے، یا پھر نہ ڈرے!
معیشت جن عبقریوں نے ٹھیک کر کے دینی تھی، وہ ایک ایک کر کے ہاتھ کھڑے کرتے جا رہے ہیں۔ عمران خان صاحب کے پاس کوئی ایسی خاص ٹیم نہیں جو معیشت کے معاملات کو ٹھیک کر سکے۔ اب تو خیر جو حالت ہے، جو بھی حکومت آئی، اس کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔