حافظ ِ شیراز کی ایک غزل جو پچھلے کئی ہفتوں سے ذہن ودل پر اپنا تسلط کیئے
ہوئے ہے ۔۔۔ ا س التما س کے ساتھ پیش ہے ۔کہ ا س کا ترجمہ پیش کیجئے۔
میں فارسی کا نوداخِل مکتب طالبِ علم ہوں ۔ ابھی صرف لطف لےسکتا ہوں
اظہار مقدور نہیں۔
غزل
ساقی بہ نورِ بادہ بر افروز جام ِ ما
مطرب بگو کہ کار...
محترمی شاکر صاحب
بندہ پروری کہ مجھ ناکارہ کو بھی یاد رکھا ۔
مدعا بتصریف ِ وقت یہ کہ ۔۔ القلم کے وی بلیٹن پر کامیاب منتقلی پر بہت بہت مبارکباد۔
اللہ بھابھی صاحبہ کو شفائے کلی نصیب فرمائے اور آپ کو اس امتحان میں سرخرو فرمائے آمین
والسلام و مع الکرام
نہ کرو ۔۔ یار ۔۔۔۔۔۔ اب ایسا تو نہ کہو ۔۔۔۔۔ ابھی ایک مراسلے میں (اسی لڑی میں ) اعلی شاعری کی کوکھ کا ذکر کیا ہے۔
اسی سے شروع کردو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیا کچھ ہمیں بھی سیکھنے کو ملے گا۔۔۔ ایسا تو نہ کرو ۔
لام ۔ میم ۔۔ نون رہ گئے ۔۔ خیر ۔
میں اپنی بات پر قائم ہوں ۔۔
اعلی شاعری پر ایک نیا تھریڈ کھولد یں ۔۔
بات کرنے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
آپ سے گزارش ہے کہ تمہیدی مراسلہ ارسال کیجئے ۔
والسلام
شکریہ احمد
خلش مٍظفر حیدر آباد کے بزرگ شاعر ہیں ’’ آغشتہ ‘‘ ان کا شعری مجموعہ ہے ۔ عبید بھائی بخوبی واقف ہیں
یہ عزم بہزاد ، لیاقت علی عاصم اور رضی حیدر کے ہمعصر ہیں۔
خلش مظفر صاحب سے میری فون پر بات ہوئی انہوں نے اس ‘‘ اس اعلی کلام پر مبنی جرم ‘‘ کی صحت سے انکار کیا ہے ۔
میں ایک مظفر وارثی کا ایک کلام دیکھا ہے ۔ جس کے لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلام ِ بلاغت نظام مٍظفر وارثی صاحب کا ہے۔
ایک نئی لڑی میں ایک غزل پیش ہے دیکھئے اور میری بات پر رائے دیجئے ...
غزل
شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
سچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہيں کرتا
گرتی ہوئی ديوار کا ہمدرد ہوں، ليکن
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہيں کرتا
ماتھے کے پسينے کی مہک آئے تو ديکھيں
وہ خون ميرے جسم ميں گردش نہيں کرتا
ہمدردی ِ احباب سے ڈرتا ہوں مظفر
ميں زخم تو رکھتا...