غزل
کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے
ساتھ والا مکان روشن ہے
یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے
آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟
چاندنی ہے سفیر سورج کی
چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے
آگ ہے کوہسار کے نیچے
برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے
دائمی زندگی کی ہے ضامن
یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے
یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے
وحشتوں کا شمار...
واہ بہت ہی خوب ۔۔۔۔! ہنس نامہ پڑھ کر لطف آیا۔
قیصرانی بھائی نے اتنی تکلیف اُٹھائی وہ بھی شاعری کے ایک "ٹاسک" کے لئے۔ :) :)
کیا بات ہے۔ (y)
خوش رہیے قیصرانی بھائی اور سید عاطف علی بھائی ۔۔۔!
پھر بھی جب تک وہ آپ کی نمائندگی کر رہے ہیں تب تک تو اُنہیں ذلیل کرنا پاکستان کی تذلیل کے مترادف ہی ہوگا۔
حکومت کے خلاف تحریک کا دائرہ اگر ملکی سیاست تک محدود رہے تو میرا خیال ہے زیادہ بہتر رہے گا۔