استاد محترم سے اصلاح کے بعد پیش خدمت ہے۔
تیری بکھری ہوئی زلفوں کا نظارہ کرتا
اپنی سانسیں تری خوشبو سے نکھارا کرتا
آ ہی جاتا مجھے کچھ تیری وفاؤں کا یقین
مست نظروں سے ذرا تو جو اشارہ کرتا
یوں سجاتا تری یادوں سے میں اپنی خلوت
کہ خیالوں میں ترا حُسن سنوارا کرتا
کبھی رخُسار پہ چھا جاتی اگر قُوس...