غیب کا علم اللہ کے پاس ہے اس لیے یہ تو نہ کہوں گا کہ جس سائل کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں، وہ حقیقت میں مستحق ہے یا نہیں۔ ایک سائل نے یہ طریقہ اپنا رکھا ہے کہ وہ ہر ایک دو ماہ بعد دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور ایک خط گھر میں اس کے حوالے کر دیتا ہے جو کہ دروازہ کھولے۔ یوں اس لیٹر کی انٹری گھر تک ہو جاتی ہے...