صفحہ نمبر 221
طرف چلی۔ شرمیلی مطربہ آنکھیں نیچی کیے اُس کے پیچھے ہو لی اور محافظوں اور درباریوں کے ہجوم میں سے گزر کر دونوں بادشاہ کے وسیع کمرے میں پہنچے۔ کمرے میں ہر طرف سیاہ پردے پڑے ہوئے تھے۔ کھڑکیاں بند تھیں کہ سورج کی روشنی اندر نہ آ سکے۔ چاندی کے شمعدانوں میں زرد مومی شمعیں روشن تھیں اور...