یہ نظم پڑھتے ہی نجانے کیوں ایک نظم یاد آ گئی، بہت پہلے سنی تھی جو حافظے میں ہے وہ سنا دیتا ہوں
شام ڈھلے نمناک سڑک پر
اک برف سی رنگت والی لڑکی
جانے کس کو ڈھونڈ رہی تھی
کھڑکی کھول کے میں کیا پوچھوں
کہہ دے گی وہ نین چرا کر
دنیا کتنا شک کرتی ہے
کان کا بالا ڈھونڈ رہی ہوں