حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا
قریب ایسے تجھے میری جان ہونا تھا
تری جبیں پہ شکن کیوں وصال لمحے میں
محبتوں کا یہاں تو نشان ہونا تھا
تمہارے چھونے سے کچھ روشنی بدن کو ملی
وگرنہ اس کو فقط راکھ دان ہونا تھا
تمہاری نفرتوں نے مٹی میں ملا ڈالا
جو خواب تارا سا پلکوں کی شان ہونا تھا
بہت ہی تھوڑی تھی...