حال
" شیر دریا "
سے
رضا علی عابدی کا بہترین سفرنامہ " شیر دریا "
یاد آیا
تبت والے کہتے ہیں کہ یہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے اس لیے انہوں نے اسے شیر دریا کا نام دیا ہے-اس میں کمال دریا کا نہیں، اس شیر کا ہے جس نے اپنے قبیلے کی روایت توڑ کر کوئی نعمت نگلی نہیں، اگلی ہے-
لیکن جیسے جیسے یہ دریا...