جان کر تیرے نقشِ پا منزل
خاک ہوں، راستوں میں جیتا ہوں
کھینچے جاتا ہوں میں عدم کا وجود
عارضی حالتوں میں جیتا ہوں
موت ہے انتہائے ہجر مگر
جینے کی ذلّتوں میں جیتا ہوں
:zabardast1:
داد قبول کیجیے:applause:
یمیی۔
ترکیب تو بہت آسان لگ رہی ہے کنول ۔ بس یہ "الو" کا ملنا ذرا مشکل ہو گا:p
چلو پھر شمشاد بھائی کی تجویز آزماتے ہوئے "الو کے پٹھوں" پر تجربہ کریں گے:daydreaming:
جی اسی کا پوچھ رہا تھا۔سرخ رنگ سے دونوں کو ہائی لائیٹ کرنے کا یہی مقصد تھا۔شکریہ۔
ありがとう
Arigatō
نوٹ:یہ گوگل کا کارنامہ ہے مجھے جاپانی نہیں آتی اس لیے اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو تو پیشگی معذرت
اس میں معذرت کی تو کوئی بات نہیں بھائی:love:
اور میں نے جان بوجھ کر ہی ایسے انداز میں تعارف کا لنک اپنے دستخط میں دیا تھا تاکہ لوگ تجسس کی وجہ سے یہاں آئیں:p
یہ کیا ہے؟؟o_O
ویکم بیک مانو۔اپنا بہت خیال رکھنا اور آپی کا بھی۔
اس حادثے سے تمہیں ایک سبق ضرور لینا چاہیئے وہ یہ کہ اگر تم خود کبھی گاڑی چلاؤ تو سیل فون استعمال نہ کرو۔ایون کہ بلیو ٹوتھ پر بھی۔اوکے
ہمارے گاؤں کے ایک زمیندار کے پاس چاندنی نام کی گھوڑی ہوا کرتی تھی۔ ایک دم سفید تھارو بریڈ۔ تھان پرکھڑی سنگ مرمر کا مجسمہ دکھائی دیتی تھی۔ بیٹی کی شادی کی تو داماد کا دل گھوڑی پر بھی آ گیا، جو زمیندار کے اکلوتے بیٹے کو بھی بے حد پسند تھی۔ داماد صاحب نے دبے لفظوں میں خواہش کا اظہار کیا تو موصوف کا...