امتیاز گل
2018ء سے پہلے پاکستان کتنا آسودہ حال تھا؟
مختلف نظریات اور ایک دوسرے کی سخت سیاسی مخالف جماعتوں کا اتحاد ‘جمہوریت کی بحالی‘ عوام کی فلاح و بہبود اور قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کے لیے ملک گیر سفر جاری ہے۔ عوام کی حالت ِزار(بلاشبہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ایک انتہائی باعثِ تشویش...
اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے۔ ہر پاکستانی الیکشن میں کچھ نہ کچھ متنازعہ ہو جاتا ہے جسے ہارنے والی جماعتیں سیاست کیلئے استعمال کرتی ہیں۔
2013 کےالیکشن کو ای سی پی اور اپوزیشن نے آر اوز کا الیکشن کہہ کر متنازعہ بنایا:
ECP blames ROs for election mess - Pakistan - DAWN.COM
Elections 2013...
آج تک ہر پاکستانی حکمران کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ نواز شریف کو اسٹیج پر جوتا مارا گیا۔ خواجہ آصف پر دوران تقریر کالی سیاہی پھینکی گئی۔ احسن اقبال کے بازو پر فائر کیا گیا۔ لیاقت علی خان اور بینظیر کا سر عام قتل کیا گیا۔
پاکستانی عوام کو کوئی حکمران پسند نہیں آتا اور حکمرانوں کو عوام سے...
الیکشن میں نیوٹرل ہو گئے تو جن قومی چوروں کو ۲۰۱۸ الیکشن میں مائنس کیا تھا وہ دوبارہ اکثریت کے ساتھ واپس آجائیں گے۔ ریاست پاکستان اب مزید ان کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بین کر کے نیوٹرل الیکشن کروا دیں تو سیاسی استحکام آ سکتا ہے۔ وگرنہ موجودہ سیاسی...
اسٹیبلشمنٹ نے خود اپنے کرتوتوں سے اپوزیشن کو اپنے خلاف متحد کر لیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر وہ اپنی گرتی ساکھ بچانے کیلئے خان اعظم کو مائنس کر دیتے ہیں تو ان کا سب سے بڑا سیاسی سہارا بھی چھن جائے گا۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو اب جو بھی کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ اپوزیشن کو این آر او نہ دینا خان...
اپوزیشن تو یہی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ساتھ معاملات طے کر کے خان اعظم کو چلتا کرے۔ دوسری طرف خان اعظم جرنیلوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ پھر این آر او کیا تو میں پورے پاکستان کو سڑکوں پر نکالوں گا۔ سیاسی گیم دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ جرنیل خود پریشان ہیں کس...
کل انٹرویو میں خان اعظم نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جنرل باجوہ نے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ جو مکا نواز شریف کو اقتدار سے باہر جا کر کئی سال بعد مارنا یاد آیا وہ خان اعظم ابھی سے مارنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنرل باجوہ کو اپوزیشن کے ساتھ معاملات سیٹ کر کے...
یہ جنگ سینیٹ الیکشن تک چلنی ہے۔ ریاست پاکستان ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ جعلی بیماریوں کے نام پر ملک سے بھاگنے والوں سے مغلوب ہو جائے۔ قوم نے فی الحال بزدل مفرور بھگوڑے نواز شریف کے مجھے کیوں نکالا کا ٹریلر دیکھا ہے۔ ابھی عمران خان کی پوری فلم دیکھنا باقی ہے۔
ان دونوں ہائی کورٹس کی ملی بھگت سے ایک سزا یافتہ مجرم و جعلی بیمار لندن میں انقلاب لاتا پھر رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس جعلی انقلابی کو شدید علالت کے نام پر ۸ ہفتے کی ضمانت دی جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے اس کا ۴ ہفتے کیلئے بغرض علاج ای سی ایل سے نام نکالا۔
اب ایک سال بعد دونوں عدالتیں نیازی...
ماڈل ٹاؤن سانحہ کی دوسری جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے بنائی۔ جب تفتیش آخری مراحل پر تھی تو لاہور ہائی کورٹ نے اس پر اسٹے دے دیا۔ دو سال سے یہ جے آئی ٹی اسٹے آرڈر پر ہے جبکہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ تین ماہ کے اندر اندر اس کا فیصلہ کریں۔ نظام انصاف کی ساری برائیاں نیازی میں...
۱۹۹۰ کا الیکشن چوری ہوا۔ آئی ایس آئی نے دھاندلی کر کے نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا۔ ۱۹۹۷ کا الیکشن جہاں نواز شریف کو ریکارڈ دھاندلی کر کے دو تہائی سیٹیں ملی۔ ۲۰۱۳ کا الیکشن آر اوز کا الیکشن تھا جہاں رات ۹ بجے نواز شریف نے اپنی جیت کا اعلان کر دیا۔
یہی جمہوریت پسند پچھلی حکومتوں میں وقت سے پہلے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے پر اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے۔ اب خود اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ :)