آج پھر ہو نہ سکے کل کی طرح محوِ سفر
آج پھر یار کی آئی ہے صدا کل کی طرح
قیدِ ہستی سے رہائی نہ ملی آج ہمیں
آج پھر ہم نے ہے کاٹی یہ سزا کل کی طرح
کل کا وعدہ تھا سو ٹلتا ہی گیا کل کل پر
کل نے کل سے مجھے بے کل ہے کیا کل کی طرح
آج پھر رو کے خدا سے تجھے مانگوں گا مگر
جانِ راجا تُو مجھے یاد تو آ کل...