غزل
جائے گا دل کہاں، ہوگا یہیں کہیں
جب دل کا ہم نشیں ملتا نہیں کہیں
یوں اُس کی یاد ہے دل میں بسی ہوئی
جیسے خزانہ ہو زیرِ زمیں کہیں
ہم نے تمھارا غم دل میں چھپایا ہے
دیکھا بھی ہے کبھی ایسا امیں کہیں
میری دراز میں، ہے اُس کا خط دھرا
اٹکا ہوا نہ ہو، دل بھی وہیں کہیں
ہے اُس کا خط تو بس سیدھا...
کچھ لوگوں نے یہ بھی کیا ہے۔
تاہم دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ تصاویر میں یگانگت نظر نہیں آتی۔
اور بیٹری جلنے کے باوجود ایک تصویر میں موبائل بالکل صحیح حالت میں نظر آ رہا ہے۔