ہاہاہاہا۔ لیکن حسان بھائی ، عارف کریم نے صرف مولوی کا ذکر کیا تھا جو تُرکی میں آج بھی موجود ہے اور اتاتُرک نے بھی مولویوں سے نہیں بلکہ اسلام کی غلط تعبیر کا شکار ہو کر قوم پرستی میں پڑنے والوں سے جان چھڑوائی تھی۔
انگریزی میڈیم بچوں کو بتا دوں کہ ”گِراں“ پنجابی میں گاؤں یا بستی کو کہتے ہیں اور اس کو تشبیہ کے طور پر شہر کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے پختون بھائی اپنے شہر کو واپس جاتے ہوئے کہتے ہیں”ام اپنے وطن جا رہا ہے“۔ یہاں بھی وطن کا مطلب ان کا شہریا گِراں ہی ہوتا ہے۔:)
تاریخ کی مدد کی ضرورت گزرے واقعات کے لئے کم بلکہ رواں حالات کو سمجھنے کے لئے زیادہ ہوتی ہے۔ جو لمحہ گزر گیا وہ تاریخ بن گیا اور 2009 بھی تاریخ ہی کا ایک حصہ ہے۔