خالہ کی بیٹی ہے گونگی، شکر ہے
اے خدا خالہ کو میری ساس کر
وصل کے اشعار جب بھی میں کہوں
ہنس کے وہ کہتی ہے "مت بکواس کر"
دوست ہیں ہم کیوں لڑیں اس کے لئے؟
وہ تری ہے یا مری، چل ٹاس کر
چیک کرتی ہے وہ ٹھڈے مار کر
صبر کا یہ امتحاں بھی پاس کر
پھول چاہت کا نہیں کھلتا اگر
دل کے گلشن میں تُو...