رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔
اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر ۔ اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔ کہ میری بات سمجھ لیں۔
اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔
اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔
سب سے پہلے تو بزرگوں کا شکریہ :bighug::notworthy::notworthy: ہم تو صرف ایک ہی معنیٰ جانتے تھے:thinking: ہمیں کیا معلوم کہ دیوار میں بنائی گئی جگہوں کو طاق کہتے ہیں۔
ہم تو "تاک " کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔:idontknow:
:hypnotized::hypnotized: لیکن ہمیں کچھ :idontknow: سمجھ نہیں آیا آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں
یا ہمیں کیا بات سمجھانا :noxxx: چاہ رہے ہیں۔
کچھ وضاحت کردیں :bighug: ہم کم عقلوں کو کچھ سمجھ آجائے گی۔ :notworthy:شکریہ وصول کریں ۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
اَللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ
ترجمہ: ”اے اللہ! بے شک ہم تجھے ان(دشمنوں) کے مقابلے میں لاتے ہیں اور ان (دشمنوں) کے شرور سے تیری پناہ مانگے ہیں۔“