نتائج تلاش

  1. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    2008 میں جب الیکشن کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی واپسی ہوئی تھی تو جمہوریت کی علمبردار جماعتیں 'انیس ٹھیس نہ لگ جائے ان آبگینوں کو' گنگناتی پھرتی تھیں. جمہوریت کا نام آتے ہی ان جمہوری رکھوالوں پر رقت طاری ہو جاتی تھی اور اس 'جمہوریت کی واپسی' کا تاج چاہے سر پر پورا آ رہا ہو یا نہ آ رہا ہو...
  2. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    جب بیعت ہوچکی اور اس امر کا فیصلہ ہوگیا کہ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فروغ دعوت حق کے لئے مدینہ منتقل ہونگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں سے بارہ نقیب منتخب فرمائے تھے اسی طرح میں بھی جبریل کے اشارہ سے تم میں سے بارہ نقیب منتخب...
  3. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    @ محمد یعقوب آسی ’’نقیب‘‘ اور ’’عریف‘‘ کے الفاظ بھی ہمارے شرعی مصادر ہی میں آتے ہیں: » نقیب: سیرت کی کتب نیز مسند احمد (رقم 1579، مستدرک (5100)، میں بیعتِ عقبہ کے ضمن میں آتا ہے: وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْرِجُوا إِلَيَّ مِنْكُمْ اثْنَيْ عَشَرَ...
  4. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    پاکستان پر کسی ایک مسلک کی بالادستی قائم کرنے کی بجائے شراکتی جمہوریت (Participatory Democracy) کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنا چاہیے تا کہ اقتدار و اختیار کی نچلی ترین سطح تک حقیقی منتقلی ہو سکے اور ملک میں موجود مختلف نوعیت کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
  5. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    عوام کی فکری راہنمائی اور انھیں ہر سطح پر منصوبہ بندی میں شریک کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے شراکتی جمہوریت کے تصور کو مستحکم کیا جائے اور مقامی سطح پر سیاسی،انتظامی اور مالی طورپر بااختیارکونسلیں قائم کی جائیں
  6. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    پاکستان کا موجودہ نظام حکومت 1850ء میں انگریز کا قائم کردہ نظام ہے جس میں اِختیارات صرف چند اَفراد کے ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہم ایسا نظامِ حکومت چاہتے ہیں جس کا ماڈل حضور نبی اکرم نے دیا تھا۔ پاکستان کے لیے ہمارا role model مدینہ ہے۔ جب آپ نے ہجرت فرمائی اور مدینہ کو ریاست بنایا تو...
  7. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    ضرورت اس امر کی ہے کہ جملہ محبِ وطن جماعتیں اور طبقات ایک وسیع تر انقلابی ایجنڈے پر متفق ہو کر ملکِ پاکستان میں صحیح معنوں میں شفاف اور عوامی شراکتی جمہوریت کے قیام کے لیے مل کر جدوجہد کریں تاکہ اقتدار کو صحیح معنوں میں عوام کو منتقل کیا جا سکے۔
  8. الف نظامی

    شراکتی جمہوریت؛ Participatory democracy

    شراکتی جمہوریت یا Participatory democracy پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سیاسی جماعتیں شراکتی جمہوریت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ... سب سے بڑا مسئلہ شراکتی جمہوریت کو پروان چڑھانے کا ہے۔ اس مقصد کے لیے اقتدار و اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی بہت ضروری ہو چکی ہے ... پاکستان کے مسائل...
  9. الف نظامی

    پاکستان میں انرجی مکس؛energy mix

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت ستر فیصد بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جاتی ہے۔ ... انہوں نے کہا کہ انرجی کے حوالے سے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس میں فرنس آئل کے بجائے مختلف ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے۔
  10. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    بہرحال فریکشنل ریزرو بینکنگ کا تعلق کرنسی کی تخلیق سے ہے جومرکزی بینک( سٹیٹ بینک) کا کام ہوتا ہے۔ اسلامی بینک یاعام دوسرے بینکوں کا کرنسی کی تخلیق سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اگر سٹیٹ بینک "فل ریزرو بینکنگ " کے اصول کو اپنا لے یعنی جتنا" ریزرو"سونا موجود ہے اتنے ہی نوٹ چھاپے تو افراطِ زر جیسے...
  11. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    براہ کرم تفصیل فراہم کیجیے۔
  12. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    افراطِ زر ؛یہ سب فریکشنل ریزرو بینکنگ کا فساد ہے۔
  13. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    کاغذی کرنسی ایک چیز ہے، اور کاغذی کرنسی کو کسی basis کے بغیر جاری کرنا اور چیز ہے۔ اگر وہ ذریعہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن جب وہ خود money creation کا ذریعہ بن جائے تب اُس سے خرابی پیدا ہوتی ہے
  14. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    "بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بینک کم شرح سود کے عوض ایک سے روپیہ مستعار لیتے ہیں اور دوسرے کو زیادہ شرح سود کے عوض مستعار دے کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بینک کبھی روپیہ قرض نہیں دیتا بلکہ ساکھ کے بل پر اپنی موجود زرِ نقد کی مقدار سے زیادہ کے اوراق جاری کر کے یا اعتبار کی اور صورتیں پیدا...
  15. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    ن لیگ نے 1992 میں سودی نظام کے خاتمے کو ناممکن قرار دیا تو ڈاکٹر طاہر القادری نے موچی دروازہ لاہور جلسہ کر کے متبادل بلاسود بینکاری نظام دیا۔
  16. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    متعلقہ:- قرض کا شرح سود اور بجلی چوری کا تاوان صارفین ادا کریں
  17. الف نظامی

    انقلاب 2014

  18. الف نظامی

    سود اور وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی بجٹ میں اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کے عزم کا پھر اظہار کیا گیا ہے۔ گزشتہ 22برسوں سے مختلف حکومتیں بشمول موجودہ حکومت نے اعلیٰ عدالتوں میں عملاً یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ بینک جو سود دیتے اور لیتے ہیں وہ ربوٰ کے زمرے میں نہیں آتا چنانچہ یہ سود حرام نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اسلامی...
Top