محترمہ قرۃالعین حیدر صاحبہ نے اپنے ناول ”آگ کا دریا“ کے صفحہ 180 پر لکھا تھا کہ ”پلاٹ کا توازن، مکالمات کی برجستگی غیر ضروری جزویات سے احتراز۔۔۔ یہی سب تو فنِ افسانہ نگاری کی تکنیک کہلاتا ہے اور کیا تکنیک میں کوئی ہاتھی گھوڑے لگے ہوتے ہیں۔“ بس جی اس بات کا یاد آنا تھا کہ ہماری روح تک خوشی سے...