ریختہ پر یہ غزل اس طرح سے ہے:
کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی
یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی
دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں
میرے ساتھ چلا آیا ہے...
شیر خان صاحب کے دیے گئے پہلے ربط سے جو پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ ہوئی اُس میں تو صرف ابنِ صفی کے ناولز کی فہرست ہے اور اسی بات کے تیس صفحات ہیں۔ پراسرا کنواں اور شیر خان صاحب دونوں ہی ناقابلِ رسائی معلوم ہو رہے ہیں اب تک تو۔ :)
ہاہاہاہا۔۔۔!
غلط العام کو صحیح مان کر عوام میں شامل ہو جائیں۔ :)
اردو محفل پر اٹھارہ ہزار پیغامات لکھ کر بھی۔ :eek::D:p
ویسے قلفی والا ایک ذرا گھورے گا اور آپ کی کم علمی پر ترس کھا کر قلفی دے ہی دے گا۔ :):)
اس لئے انسان کو فیصلے کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ غصے اور اشتعال کی کیفیت میں کبھی فیصلے نہ کیے جائیں۔ اور اگر ایک فیصلہ کر لیں تو پھر چار چھ ماہ اُسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھیں اور وقت گزرنے کے بعد بھی آپ اپنے فیصلے پر قائم رہیں تو آپ اس سلسلے میں پیش قدمی کر سکتے ہیں۔
بہت اچھا لکھا حمیرا آپ نے۔ ویسے انسانی رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ کسی شخص کے بارے میں آپ سوچتے ہیں کہ اس سے تو میری زندگی بھر نہیں بن سکتی لیکن ایک وقت آتا ہے کہ اُس کے علاوہ آپ کو کوئی اچھا نہیں لگتا۔ اور کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ یعنی جس شخص کے بغیر جینا محال لگتا ہے، وقت آتا ہے کہ وہ شخص زہر...