سازین سے سڑک کچھ بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے
جو چلاس سے تھوڑا پہلے اسقدر شاندار ہو جاتی ہے۔
چلاس کے بعد رائکوٹ پُل سے تھوڑا پہلے تھوڑا سا ٹوٹا پھر خراب آتا ہے جبکہ اس سے آگے خنجراب تک نہایت شاندار سڑک ہے ۔
یوں تو ادارے عامر لیاقت صاحب کو کبھی بھی پسندیدہ نظروں سے نہ دیکھتا تھا تھا- ابھی اس نے جس طرح توہین کارڈ کھیلنا شروع کیا ہے کافی خطرناک ہے- غالباً اسکی ڈوریاں ہلانے والے سمجھ نہیں پا رہے کہ کس ہولناک آگ کو ہوا دے رہے ہیں-
چند مثالیں !!
وغیرہ وغیرہ