کرتے ہو گلی کُوچوں کو تارِیک بھی خُود ہی
پھر روشنی کی بانٹتے ہو بِھیک بھی خُود ہی
رسی جو نہیں کھنچتا ظالم کی کسی طور
آ جاتی ہے پھر سوچ میں تشکِیک بھی خُود ہی
بِن بات جو وہ خُود ہی بگڑ بیٹھا ہے ہم سے
اک روز وہ ہو جائے گا پھر ٹِھیک بھی خُود ہی
ہوتا ہے وہ بیدار تو رہتا ہے کشیدہ
خوابوں میں چلا...