محترم ذیشان بھائی
کیا خوب لکھا ہے "ارتقاء " کو
استعارہ در استعارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے روشنی پھیلتی جائے چہار جانب مگر مرکز سے نہ بھٹکے ۔۔
میں اصل میں لاروا نما
ٹہنی ہے جس کی کل کائنات
یک رنگ و یک بیں
بس ایک دنیا سے واقف
جو ہے زرہ نما
جو بھی زرے میں خود ہی مگن ہو گیا
وہ ہے زرہ بنا
۔۔