کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے
تجھ سا بے سایہ نظر آیا نہ دارین میں ہے
عین ملتا ہے جو رب سے تو عرب بنتا ہے
اک حقیقت ہے جو پوشیدہ اسی عین میں ہے
سر تو بس حکم پہ جھکتا ہے سوئے بیت حرم
سجدہ دل رخِ محبوب کے قوسین میں ہے
عرشِ اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے ان سے
سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں...