ہر ایک دل میں لگ گئی بس ایک ہی لگن
پُھولا پھلا اخوّت و اخلاق کا چمن
اربابِ اتقا سے سجی حق کی انجمن
کفر و نفاق ہو گئے افسانہ کُہن
ویران، سرکشی کے صنم خانے ہو گئے
سب جلوہ رسول کے پروانے ہو گئے
وہ جادہ حیات کا رہبر مہِ منیر
مظلوم کا رفیق، غریبوں کا دستگیر
گردوں حشم، بلند مراتب فلک سریر
روشن خیال، پاک طبیعت، وفا ضمیر
تسکیں ہر ایک قلبِ پریشان کے لیے
مینار روشنی کا ہر انسان کے لیے
تفویض تھا ازل سے اُسے منصبِ جلیل
والی ہوا یتیموں کا بیواؤں کا کفیل
انسانیت کو راہ پہ لایا بہر سبیل
وہ روشنی وہ نور کی اک مستقل دلیل
انساں کو پیروی میں اُسی کی نجات ہے
ہر لفظ اُس کا مشعلِ راہِ حیات ہے
اُس نے سکھائے مہر و وفا، خلق و آشتی
اُس نے بتائے بندوں کو اسرارِ سرمدی
اُس کی ہر اک شعاع میں اکِ درسِ زندگی
اُس نے ہر ایک قدر بدل دی حیات کی
زندانِ رنگ و نسل کو برباد کر دیا
اُس نے ہر ایک غلام کو آزاد کر دیا
چھٹنے لگیں سیاہیاں جہل و غرور کی
پاس آ گئی سمٹ کے جو منزل تھی دُور کی
تسکیں ہوئی ہر ایک دلِ ناصبور کی
تھی شش جہت میں روشنی وحدت کے نُور کی
تاریکیوں کا نام نہ اب دُور دُور تھا
اُس نُور کا جو سایہ تھا وہ خود بھی نُور تھا
اُس نور کی جو ظُلمتِ باطل سے تھی جدال
وہ وہ ستم سہے ہیں کہ تھرّا اُٹھے خیال
ایذا دہی، مقاطعہ، تحریصِ گنج و مال
یہ سب موانعات تھے اور نُورِ ذوالجلال
ضوبار و ضوفشاں پئے بر ناد پیر تھا
مصباحِ کائنات و سراجِ منیر تھا
پیدا ہوئے تو کعبہ پکارا کہ مرحبا
کھولی جو آنکھ سامنے تھا روئے مصطفےٰ
پھر کچھ سنبھالا ہوش تو بعثت کا دور تھا
پہلے اُنھیں کو دولت ایماں ہوئی عطا
خادم مَلک ہیں جن کے وہ انسان ہیں یہی
اہلِ نظر میں سابق الایمان ہیں یہی
ہر سانس جس کی گلشنِ اسلام کی بہار
مختارِ دیں متاعِ پیمبر کا ورثہ دار
ایمان کا وقار شریعت کا افتخار
مذہب کا اعتماد، طریقت کا اعتبار
سینے میں بحرِ علمِ لدنی لیے ہوئے
نظریں رُخِ رسول کی جانب کیے ہوئے
آئینہ ضیائے رُخِ مصطفےٰ علی
تصویر حسنِ رُوئے حبیبِ خدا علی
جلوہ علی جمال علی حق نما علی
اُمت میں اور رسول میں اک واسطہ علی
اُن میں تجلئ رُخ دلجوئے مصطفےٰ
دیکھا اُنھیں تو دیکھ لیا رُوئے مصطفےٰ
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
منزل علی مراد علی مدعا علی
ساحل علی سفینہ علی ناخدا علی
ان سے جدا نبی نہ نبی سے جدا علی
پھیلی ہوئی شمیم اخوت کے پھول کی
ٹھنڈی تھیں ان کو دیکھ کے آنکھیں رسول کی
شیرِ خُدا علی ولی شاہِ بو تراب
مولائے کائنات، مشیت کا انتخاب
زیبِ زمینِ کعبہ شہِ آسماں جناب
برج شرف کا مہر حقیقت کا آفتاب
دیں کا حصار ساقئ کوثر سخی علی
دل کی زباں پکار رہی ہے علی علی
دُنیا کو یاد ہو گی مدینے کی ایک شام
تقسیم کر رہے تھے غنیمت شہِ انام
کچھ اسلحہ تھے چند کنیزیں تھیں کچھ غلام
اُس دم بتول پاک نے آ کر کیا سلام
کی عرض، اِک کنیز عطا کیجیے ہمیں
گھر کی مشقتوں سے رہا کیجیے ہمیں