ظہیر بھائی، اب ذرا دیکھیے گا۔
تیرِ نظر ہی دشمنِ جاں کا اگر ہو پار
کیا سامنے پھر اس کے اٹھاؤں سپر کو میں
بے داد ہی رہی ہے گو آہ و فغاں مری
دیتا رہا صدائیں ہر اک داد گر کو میں
اُس آنکھ پر نہ ٹوٹے تغافل کا کوئی قہر
اک عمر سے تڑپتا ہوں جس کی نظر کو میں
سر اٹ گیا ہے خاک سے، خوں میں نہا گیا
در پر...