یہ کس نے کہا کہ کاروبار پیسے کے بغیر چلے گا۔
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ بندہ ٹھان لے اور کوشش کرتا رہے تو راستے اور وسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
ہمارے میڈیا کا یہی حال ہے۔
جب پاکستان میں چیف جسٹس بحالی کی مہم چل رہی تھی تو میڈیا نے ہمیں باور کروایا کہ چیف جسٹس کی بحالی سے ہم ملک کے مسائل حل ہو سکیں گے۔ ہم نہ جانے کس کس اینکر کے کون کون سے پروگرام دیکھتے تھے کہ بہتری کی باتیں سننے سے دل کو ڈھارس ملتی تھی۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ اصل مسئلہ...
یعنی ناروے جیسے لبرل اور غیر جذباتی ملک کے جھنڈے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہو گئی کہ اُسے مسلمانوں کی مقدس کتاب کے برابر لا رکھا آپ نے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔
ارے ہم ناروے والوں کی نہیں، بلکہ ناروے میں مقیم اور محفل میں موجود مسلمانوں کی دینی حمیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس پر یکسو ہو کر جواب دیجے۔ آپ مشتعل نہیں ہوتے نہ ہوں، لیکن اپنے دین و مذہب کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی کیا تُک بنتی ہے۔