مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں وزراء کے پاس متعلقہ علم اور تجربہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی ادارے کی کارکردگی کو ٹھیک کر سکیں۔
ریلوے میں ایک معمولی آفیسر بننے کے لئے تو بے تحاشا شرطیں ہوں گی لیکن ریلوے کا وزیر بننے کے لئے کوئی شرط نہیں ہوتی ۔ سوائے اس کے کہ الیکشن جیت لیا جائے اور وزیر بنانے پر مجاز...
ہمارے ہاں سنوائی نہیں ہوتی بالکل بھی ۔ اثر رسوخ والے قانون پر اڑنے کے بجائے ماورائے قانون اپنے کام نکلوالیتے ہیں۔
اور غریب کے پاس یوں بھی کوئی "چوائس" نہیں ہوتی۔
ایک وقت تھا کہ ہمارا ریلوے نظام بھی وقت کا بہت پابند تھا۔ ہم اگر ایک منٹ بھی تاخیر سے پہنچتے تو ٹرین نکل جاتی۔
لیکن اگر ہم وقت پر پہنچ جاتے تو ٹرین اپنے سولہ سنگھار میں ہی ایک گھنٹہ لگا دیتی۔ :)
عمدہ تحریر ظہیر بھائی!
مذکورہ صورت میں کلام کے بجائے شاعر کی اصلاح کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔
یہ مصرع البتہ کافی جاندار ہے بلکہ زوردار ہے۔ :)
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے :)
اگر ان بارہ نکات میں دو مزید جوڑ دیئے جاتے توہم آپ کو قائدہِ اعظم کا لقب دے دیتے۔ :)
بارہواں نکتہ بڑا شاندار ہے۔ :)
لیکن ہم پھر بھی یہی کہیں گے کہ
سبق پھر پڑھ "صداقت کا"، "قناعت کا"، شرافت کا" :)
اگر مصرع کی گرہ : صلائے عام ہے ۔۔۔۔ :)