سلامِ ابن حیدر لکھ رہا ہوں
میں قطرہ ہوں، سمندر لکھ رہا ہوں
قلم کو روشنی درکار بے حد
کہ میں حر کا مقدر لکھ رہا ہوں
بہا کر چند آنسو مجلسوں میں
خود اپنے نام کو سر لکھ رہا ہوں
مدد کو آئیے مولا نجف سے
ودائے ابن شبر لکھ رہا ہوں
سمندر چاہیے آنکھوں میں میری
مقامِ خونِ اصغر لکھ رہا ہوں
رگوں میں ہے...
تیر، اِک بار جو افواجِ ستم نے بَرسائے
کتنے انصارِ حسینی تھے لہو میں جو نہائے
ساتھ جس کام کو آئے تھے اسی کام میں آئے
شاہ نے بہر دعا سوئے فلک ہاتھ اٹھائے
یارب ان جاہلوں کو علم کی دولت دیدے
دیکھ سکتے نہیں کچھ ان کو بصارت دیدے
صبح عاشور وہ ہنگامہ باطل وہ خروش
بَد گہر نشہ کثرت سے ہوئے تھے مدہوش
بادہ فسق میں آیا تھا عجب رنگ سے جوش
بند تھا نہر کا پانی پئے شاہِ حق کوش
ہر طرف سے دف و قرنا کی صدا آتی تھی
سوئے کوفہ سے جہنم کی ہوا آتی تھی
اُس طرف فخر و مباہاتِ جہالت دن رات
اِس طرف حمدِ خدا، نعتِ نبی، ذکرِ نجات
اُس طرف بند نبی زادوں پہ تھا آبِ فرات
اِس طرف کوثر و تسنیم و جناں کی سوغات
اِس طرف چشمہ رحمت کی بھی موجیں تھیں
اُس طرف ظلم کا طوفان تھا اورفوجیں تھیں
گُرز و تیغ و سپر و ناوک و پیکان و سناں
زرہِ آہن و خود و علم و طبل و نشاں
جمع تھے جتنے ہلاکت کے ہیں وہ سب ساماں
اور اِدھر سبطِ پیمبر کی زباں پر قرآں
اُس طرف آگ کا دریا تھا شرر باری تھی
اِس طرف دعوتِ دینِ نبوی جاری تھی
شامی و رومی و کوفی و عراقی خونخوار
آتشِ ظلم میں جلتے ہوئے سب کندہ نار
حامئ جور و ستم ، دینِ خدا سے بیزار
بندہ حرص و ہوس نشہ خوں سے سرشار
آلِ احمد کے لیے کتنی بلائیں آئیں
خون برسانے کو میداں میں گھٹائیں آئیں
جمع ہونے لگے پھر چاروں طرف سے لشکر
جن میں موجود تھے دنیا طلب و بندہ زر
جاہل و خود سر و خودبیں و دنی بانئ شر
جن کو اُمید شفاعت تھی نہ اللہ کا ڈر
غارتِ قافلہ سبطِ پیمبر کے لیے
آ گئے رَن میں کئی لاکھ بہتر(72) کے لیے
حکم فوجوں کو ملا جاؤ انہیں زیر کرو
دل نہ پِھر جائیں کہیں ، بات ہی ان کی نہ سنو
یہ جو آمادہ بیعت ہوں تو بیعت لے لو
شکلِ انکار جو دیکھو تو نہ زندہ چھوڑو
یہ نہ دیکھو کہ جگرِبندِ نبی آئے ہیں
دشمن تخت پئے فوج کشی آئے ہیں
دیکھی باطل نے جو یہ شوکتِ ایماں، لرزا
زلزلہ تخت پہ طاری ہوا ، ایواں لرزا
ہو گیا سبطِ پیمبر سے ہراساں ، لرزا
ٹوٹتی سی ہوئی محسوس رگِ جاں ،لرزا
سامنا سبطِ پیمبر سے کچھ آسان نہ تھا
ظلم کرنے کے علاوہ کوئی امکان نہ تھا
رشکِ گلزار ہوا کرب و بَلا کا صحرا
دشت میں چلنے لگی گلشنِ زہرا کی ہوا
یوں معطر ہوئی خوشبوئے امامت سے فضا
نکہتِ گلشنِ فردوس میں ہر ذرہ بسا
کھل گیا رحمتِ باری کا خزینہ گویا
کربلا میں اتر آیا تھا مدینہ گویا
ساتھ عباس کے سب ان کے برادر آئے
نور ِایماں لیے ہم شکلِ پیمبر آئے
قاسم آنکھوں میں لیے سطوتِ شبر آئے
مُسکراتے ہوئے گہوارے میں اصغر آئے
بنتِ حیدر کے جو تھے لخت جگر ساتھ آئے
زینب آئیں تھیں تو زینب کے پسر ساتھ آئے
آئے میدان میں انوارِ سیادت لے کر
آئے فرمانِ خدا حکمِ رسالت لے کر
صبر ایوب کا، حیدر کی شجاعت لے کر
دلِ حق کوش میں ارمانِ شہادت لے کر
نرغہ جہل میں عرفاں کے خزانے لائے
اپنے ہمراہ تمام اپنے یگانے لائے
ایسے عالم میں نہ اٹھتے جو حسین ابن علی
مٹ گیا ہوتا زمانے سے وہیں دینِ نبی
نام لیوا کوئی اسلام کا ملتا نہ کبھی
وارثِ دیں تھے مگر سبطِ رسولِ عربی
اٹھے اسلام کی فریاد کو سُن کر شبیر
بن گئے چارہ گرِ دینِ پیمبر شبیر
ہو جہاں اہل حکومت کا یہ اندازِ نظر
اُن فضاؤں میں پنپ سکتا ہے ایماں کیونکر
دلِ اسلام میں پیوست ہوا خنجر زر
جھک گئے جبر کی قوت پہ مسلمانوں کے سر
دین جب قوتِ باطل سے ہم آغوش ہوا
اُسوہ احمدِ مختار فراموش ہوا
صرف قوت ہے جو انسان کو دیتی ہے نجات
قوت و زر کے سوا اور ہیں بے سود صفات
عیش کرنے کے لیے پائی ہے انساں نے حیات
کیا ضروری ہے عبادت میں بسر ہوں اوقات
حق زمانے میں ضعیفوں کو نہیں جینے کا
زور جس میں نہیں وہ زنگ ہے آئینے کا