میری محترم بٹیا
تصوف کی ابتدا یا تصوف کی بنیاد جو کلمہ کہلاتا ہے ۔ وہ کچھ یوں ہے کہ
" جس نے خود کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا "
خود کی پہچان کے لیئے اپنے باطن کو چھاننے کے سفر میں نکلنے والے راہ سلوک پر رواں رہتے " سالک ،ابدال ۔ قطب ، غوث ، عبد " کی منزل سے گذر حقیقت کی حقیقت کو پاتے...